کاروار19؍نومبر(ایس او نیوز) جب سے گوا کی حکومت نے فارمولین کے مسئلے پر بیرونی ریاستوں سے مچھلیوں کی درآمد پر پابندی رکھی ہے اور کچھ قانونی شرائط لاگو کی ہیں، تب سے ساحلی کرناٹکا کے شہروں میں اس کا کچھ ملا جلا اثر دکھائی دے رہا ہے۔
کاروار اور ملپے جیسے شہروں میں جہاں ماہی گیری کی بندر گاہیں موجود ہیں، مچھلیوں کی وافرمقدار پڑی رہنے سے مختلف اقسام کی مچھلیوں کی قیمتوں میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے جبکہ منگلورو جیسے شہر میں بھی بندر گاہ رہنے کے باوجود مچھلیوں کی مانگ زیادہ رہنے کی وجہ سے مچھلیوں کی قیمتیں لگاتار بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔اور گوا میں لگی ہوئی پابندی کا اثر یہاں ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔گاہکوں کا کہنا ہے کہ جولائی اور ستمبر میں مچھلی کی جو قیمتیں تھیں، ان میں تو کمی آئی ہے ، البتہ اکتوبر اورنومبر کے دنوں میں جو قیمتیں گزشتہ سال چل رہی تھیں اس کے مقابلے میں امسال اضافہ ہوا ہے۔
خاص قسم کی مچھلیاں جیسے کہ سفید اور سلورپمفریٹ(پوپلیٹ) مچھلی کی قیمت اکتوبر کے مہینے میں منگلورو مارکیٹ میں 1100/-روپے فی کیلو تک چل رہی تھی جوکہ اب تک کی سب سے بھاری قیمت ہے۔جبکہ سورمائی مچھلی کی قیمت نومبر کے مہینے میں 600روپے سے 1000روپے فی کیلو گرام چل رہی ہے۔ دوسری طرف کاروارشہر میں مچھلیوں کے شوقین اس بات سے خوش نظر آرہے ہیں کہ پہلے گوا میں فروخت کے لئے بھیجی جانے والی اچھی قسم کی مچھلیاں اب کاروارکی مارکیٹ میں کم قیمت پر آسانی سے مل رہی ہیں۔البتہ یہاں پر اس کا منفی اثر اور نقصان مچھلی کے تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ مچھلی کی بر آمد سے ہونے والی موٹی کمائی میں کمی آگئی ہے۔
کاروار کے ایک ماہی گیر گنگادھر تانڈیل نے بتایا کہ ’’ مچھلی فروشی کرنے والے ایجنٹ ہمیں پیشگی رقم دیا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کشتیوں اور جال کی مرمت کے لئے کبھی کبھی قرض بھی دیا کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے نفع کی شرح بہت ہی معمولی ہوتی ہے۔اس وجہ سے گوا میں پابندی کا اثر ماہی گیروں پر کچھ زیادہ نہیں ہوا ہے ، بلکہ اس کا بڑا خمیازہ گوا میں موجودمچھلی فروشوں کو ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘
مگر ملپے ماہی گیر بندر پر کچھ اور ہی کہانی ہے۔ یہاں کے ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ گوا میں درآمد پر پابندی کا منفی اثر براہ راست ان پر پڑا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے شکار کی گئی مچھلیوں کی قیمت میں بڑی حد تک کمی آگئی ہے۔ اڈپی ضلع کے فش مارکیٹنگ فیڈریشن کے صدر یشپال سوورنا کا کہنا ہے کہ ملپے بندرگاہ سے گوا کے لئے روزانہ 15تا20ٹرک مچھلیاں روانہ کی جاتی تھیں۔ جبکہ گزشتہ دس پندرہ دنوں سے یہاں کی حالت بہت ہی ابتر ہوگئی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گوا حکومت کو یہ پابندی ہٹالینی چاہیے۔